تحریر ۔ شیخ خالد مسعود ساجد صدر وہاڑی پریس کلب وہاڑی
نفسانفسی اور مادہ پرستی کے اس پُر آشوب دور میں جب ہر شخص راتوں رات امیر بننے کے لیے شارٹ کٹ راستے اختیار کر رہا ہے ۔ایسے میں مسیحائی کے پیشے سے منسلک ڈاکٹر بھی کسی سے پیچھے نہیں ۔حکومت کی جانب سے اربوں روپے خرچ کر کے بنائے گئے میڈیکل کالجزمیں جب کوئی لڑکا یہ لڑکی ڈاکٹری کی تعلیم حاصل کر نے کے لیے داخل ہوتا ہے تو \"دکھی انسانیت کی خدمت \"کے بلند و بانگ دعوے ٰ کرتے ہیں مگر ڈگری حاصل کر تے ہی عملی طور پر فیلڈ میں جاتے ہی سرکاری ہسپتال میں ڈیوٹی کے دوران مریضوں اور اُن کے ورثا ء کے ساتھ رویہ انتہائی تضحیک آمیز جبکہ و ہی ڈاکٹر ز اپنے پر ائیویٹ کلینک پر بھاری فیس لے کر اپنے رویہ کو مثبت اور \"دولت کے پجاری \"بن جاتے ہیں۔
کسی ایک انسان کا قتل پوری انسانیت کے قتل کے مترادف ہے جبکہ کسی ایک انسان کی جان بچانا پوری انسانیت کی جان بچانے کے مترادف ہے ۔ مگرافسوس کہ پاکستان میں مسیحائی پیشے سے منسلک اکثر سرکاری ڈاکٹرزجَلاد بن جاتے ہیں ۔
ایسی ہی ایک لرزہ خیز واردات ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹر ہسپتال وہاڑی کے چلڈرن کمپلیکس کے نوزائیدہ بچوں کےICU وارڈ میں 9ستمبر 2014کی صبح ہوئی جب تقریبا 3بجے ایک بچے کی ماں اپنے لختِ جگر کو دیکھنے آئی سی یو میں گئی تو تین چار بچوں کو بلکتے دیکھا اور شور مچا دیا جس پر دیگر بچوں کے ورثاء بھی آگئے تو معلوم ہوا کہ آکسیجن گیس کا سلنڈر ختم ہو گیا ہے جس کی وجہ سے اِنکو بیٹر ز میں پڑے بچوں کی زندگیوں پر موت کے سائے منڈلا رہے تھے ورثاء نے اوپر والی منزل عارضی ڈیوٹی پر مامور خالد نامی سویپر کو اٹھانا چاہا جو اپنے کمرے میں خوابِ خرگوش کے مزے لے رہا تھا ۔اسی طرح سٹاف نرس سمیرا جانسن جس نے اپنے روم میں اندر سے کنڈی لگا رکھی تھی ۔ورثاء کے دروازہ کھٹکھٹا نے پر بھی نہ کھولا ۔ایک گھنٹے بعد سویپر نے دروازہ کھولا مگر گیس سلنڈر لانے کے لیے سٹور کیپر کو تلاش کر تا رہا آکسیجن آنے تک چار نوزائیدہ بچو ں کو اُن کے والدین اپنی آنکھو ں کے سامنے اپنے جگر گوشوں کو موت کی آغوش میں جاتے دیکھ کر کچھ نہ کر سکے اور چند لمحوں میں چار گھروں میں صف ماتم بچھ گئی ۔اس موقع پر جاں بحق ہونے والے بچوں کے ورثاء نے بتایا کہ کچھ وقت پہلے تین
بچے ایسی طرح جاں بحق ہو گئے تھے جن کے ورثاء نے اسے قدرتی موت قرار دے کر لے گئے ہسپتال کے عملہ نے اُنکا اندراج بھی نہ کیا بچوں کی ہلاکت کی خبر جنگل کی آگ کی طرح پورے شہر میں پھیل گئی سارا شہر سوگوار بن گیا سینکڑوں لوگ ہسپتال پہنچ گئے ہرآنکھ اشکبار تھی ۔وزیراعلیٰ پنجاب میاں شہباز شریف نے سخت نوٹس لیتے ہوئے اعلی سطعی انکوائری ٹیمیں تشکیل دے دی ۔ڈی سی او جواد اکرم ، ڈی پی او صادق علی ڈوگر،ایم ایس ڈاکٹر محمد اشرف ،ای ڈی او ہیلتھ ڈاکٹر افضل بشیر کے علاوہ سیاسی عمائدین ،لیگی عہدیداران اور پورا شہر ہسپتال اُمڈ آیا اورڈاکٹروں کے اس رویہ کی شدید الفاظ میں مذمت کی ۔ضلع بھر کی عوام اس سانحہ عظیم پریہ خیال کرتی رہی کہ وزیر اعلی پنجاب کسی بھی لمحہ وہاڑی پہنچ سکتے ہیں مگر رات گئے وزیراعلیٰ نہ پہنچے تو دوسرے روز ضلعی انتظامیہ نے باقاعدہ وزیر اعلیٰ کی آمد کی اطلاع جاں بحق ہونے والے بچوں کے ورثاء کو دیتے ہوئے بستی کنڈور میں چاروں بچوں کے وارثان کو اکھٹا کر لیا اور ان کو بتایا کہ وزیراعلی اپنے ہاتھوں سے انہیں پانچ لاکھ روپیہ فی کس امدادی چیک دیں گے مگر ٹھینگی ائر بیس انتظامیہ کے مطابق کوئی بھی جہاز یا ہیلی کاپٹر 6-20بجے شام تک آیا جا سکتاہے سورج کی روشنی ختم ہونے پر یہ سہولت ختم ہو جاتی ہے اس طرح 6-20بجے شام کے بعد کنفرم ہو گیا کہ وزیر اعلی آج نہیں آ سکیں گے اس طرح صبح سے بیٹھے جاں بحق ہونے والے ورثاء امداد اور انصاف کے حصول کے بغیر اپنے پیاروں کی جدائی کاغم لیے اپنے گھروں کو سدہار گئے ۔وزیر اعلی کے حکم پر وزیر اعلی انوسٹی گیشن ٹیم جس کے سربراہ عرفان علی ہیں جبکہ ممبران میں طاہر یوسف ممبر سی ایم آئی ٹی ،ڈی آئی جی طارق مسعود اور ڈاکٹر محمود شریف پرنسپل علامہ اقبال میڈیکل کالج تھے جبکہ دوسری ٹیم میں وزیر اعلیٰ کے مشیر ہیلتھ خواجہ سلمان رفیق اور ڈی جی ہیلتھ پنجاب ڈاکٹر زاہد پرویز شامل تھے ۔مانیٹرنگ ٹیم نے ڈی ایچ کیو ہسپتال وہاڑی میں نومولود بچوں کی ہلاکت کے بارے میں اپنی ابتدائی رپورٹ میں ہسپتال کے ڈاکٹروں اور عملہ کی غفلت و لاپر واہی کی وجہ بھی قرار دیا جبکہ SOPپر عملدر آمد بھی نہ کرنا ثابت ہواہے جس پر محکمہ ہیلتھ نے ایم ایس ڈاکٹر محمد اشرف ،چلڈرن وارڈ نے انچارج ڈاکٹر خالد محمود،چائیلڈ اسپیشلسٹ ڈاکٹر عبدالحفیظ ،ایم او ڈاکٹر مقبول حسین ،سٹاف نرس سمیرا جانسن اورسویپر محمد یٰسین کو معطل کر دیا جبکہ وہاڑی پولیس تھانہ داینوال نے جاں بحق ہونے والے ایک بچے کے ماموں خادم حسین کی رپورٹ پر ایم ایس ڈاکٹر محمد اشرف،چلڈرن وارڈکے انچارج ڈاکٹر خالد محمود ،ایم او ڈاکٹر مقبول حسین ،سٹاف نرس سمیرا جانسن، سویپر محمد یٰسین اور خالد جٹ جو محمد یٰسین کی جگہ پر 6,000روپیہ ماہوار پر غیر سرکاری طور پر کام کرتا تھا کے خلاف مقدمہ نمبر 362/14مورخہ 11ستمبر 2014 زیر دفعہ 302,419,171,147,148ت پ درج کر گئے محمد یٰسین اور خالد جٹ کو گرفتار کر لیا ۔جبکہ مقدمہ میں ملوث تینوں ڈاکٹرز اور سٹاف نرس نے ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج وہاڑی کی عدالت سے ضمانت قبل اِز گرفتاری کروا لی ۔اس طرح ڈاکٹروں نے قتل کے مقدمہ کے خلاف شدید احتجاج شروع کر دیا جبکہ محکمہ ہیلتھ پنجاب نے ایم ایس بوریوالہ ڈاکٹر محمد اکرم کو ایم ایس ڈی ایچ کیو تعینات کرتے ہوئے فوری طور پر معطل ایم ایس ڈاکٹر محمد اشرف کی جگہ چارج لینے کا حکم دیا گیا جس پر 12ستمبر کو ڈاکٹر محمد اکرم 8بجے رات ڈی ایچ کیو ہسپتال پہنچے مگر ڈی ایچ کیو کے مین گیٹ پر ہڑتالی ڈاکٹر کیمپ لگائے بیٹھے تھے نے ایم ایس کی کرسی پر بیٹھنے والے
نئے ایم ایس ڈاکٹر محمدا کرم کو کرسی سمیت اُٹھا کر باہر پھینک دیا اور زدوکوب بھی کیاجس پر وہ واپس چلے گئے اگلے روزہڑتالی ڈاکٹروں نے بازؤں پر سیاہ پٹیاں باندھ کر احتجاجی ریلی نکالی اور ای ڈی او ہیلتھ کے دفتر کا گھیراؤ کیا اور پی ایم اے کے قائم مقام صدر ڈی ایچ کیو کے فزیشن ڈاکٹر طارق محمود طاہر اور جنرل سیکرٹری ڈاکٹر راؤ مسعود اکبر نے دیگر ڈاکٹروں کے ہمراہ پریس کانفرس کرتے ہوئے بتایا کہ چار بچوں کی ہلاکت میں ڈاکٹروں اور سٹاف نرس کا کوئی قصور نہیں بچے پیدائش کے وقت انتہائی کمزور اور کم وزن تھے جب وہ ہسپتال داخل ہوئے تو اُن کے بچنے کے چانسز 30%تھے جبکہ3 بچوں کی پیدائش بھی دیہی علاقوں کی دائیوں کے ہاتھوں ہوئی تھیں اس طرح اگر عملہ سے کوئی غفلت یا کوتاہی ہوئی بھی ہو تو بھی ڈاکٹروں اور عملہ کے خلاف قتل جیسی سنگین دفعات کے تحت مقدمہ کا اندراج قطعی غیر قانونی غیر اخلاقی ہے جس سے ڈاکٹرعدم تحفظ کا شکار ہیں انہوں نے کہا کہ اگر ڈاکٹروں و سٹاف کے خلاف درج مقدمہ فوری طور پر واپس نہ لیاگیا اور ڈاکٹرز کو بحال نہ کیا گیااور اختیارات سے تجاوز کر تے ہوئے ڈاکٹروں کے خلاف مقدمہ درج کرنے والوں کے خلاف کاروائی اور ای ڈی او ہیلتھ ڈاکٹر افضل بشیر کو معطل کرنے کے خلاف پورے پنجاب میں ہڑ تال کی جائے گی انہوں نے ڈی ایچ کیو وہاڑی ،ٹی ایچ کیو بوریوالہ اور میلسی کے علاوہ ضلع بھر میں پرائیویٹ ڈاکٹروں کی بھی ہڑتال کا اعلان کر دیا انہوں نے کہا کہ CMITکی رپورٹ کے مطابق ڈاکٹروں کے خلاف کوئی جرم ثابت نہ ہوا ہے ۔۔دوسری جانب وہاڑی پولیس نے ڈاکٹروں کے خلاف درج مقدمہ میں ترمیم کرتے ہوئے زیر دفعہ 302 کو تبدیل کر کے زیر دفعہ 322لگا دی ہے ۔تاہم ڈاکٹروں کی ہڑتال جاری رہی اور مسلسل پانچ روز تک ڈاکٹروں نے پورے ہسپتال کو بند رکھا جب کہ ایمرجنسی میں بھی ڈاکٹروں کا مریضوں کے ساتھ رویہ ناروا رہا اس طرح اٹھارہ سالہ لڑکی سمیت سات مریض جن میں دو نوزائیدہ بچے بھی شامل ہے مختلف وقت میں ہلاک ہو گئے ۔جب کے ایک خاتون نے ہسپتال کے برامدے ہی میں بچے کو ڈاکٹروں کی طرف سے طبی امداد نہ دینے کے باوجودساتھ آنے والی دائی کے ذریعے بچے کو جنم دے دیا ۔وہاڑی کے شہریوں سول سوسائٹی،کسان اتحاد ،اور دیگر تنظیموں نے ڈاکٹر وں کے رویہ کی شدید الفاظ میں مذمت کر تے ہوئے احتجاجی مظاہرے کیے جب ڈسٹرکٹ باروہاڑی نے ڈاکٹروں کے رویہ کے خلاف ہڑتال اور احتجاجی مظاہرہ کیا ۔ضلع بھر میں ڈاکٹروں کی ہڑتال سے صحت کے مسائل بڑ ھ گئے لوگوں کو دوسرے شہروں کا رکھ کرنا پڑا جس پر ڈاکٹروں کے ساتھ ضلع کے ارکان اسمبلی ایم این اے طاہر اقبال چوہدری ، ایم پی ایز میاں ثاقب خورشید چوہدری محمد یوسف کسیلیہ ، نعیم خان بھابھہ ، چوہدری ارشاد احمد آرائیں ، فرح منظور رند ، شمیلہ اسلم ، ڈی سی او جواد اکرم ، ڈی پی او صادق علی ڈوگر نے ڈاکٹروں کے ساتھ بار بارمذاکرات کئے مگر ڈاکٹرز ضلعی انتظامیہ اور ای ڈی او ہیلتھ اور ڈی ایچ او کے تبادلہ اور ڈاکٹروں کے خلاف مقدمہ کے اخراج اور بحالی پر بضد رہے بالا آخر مسلم لیگ (ن) کی مرکزی رہنما و رکن قومی اسمبلی محترمہ تہمینہ دولتانہ اسلام آباد سے وہاڑی پہنچ گئیں اور ڈی پی او آفس میں ڈی سی او جواد اکر م ،ڈی پی او صادق علی ڈوگر ، ایم این اے سید ساجد مہدی سلیم شاہ اور ایم پی اے میاں ثاقب خورشید کی نمائندگی اُن کے بھائی آصف خورشید نے کی جبکہ پی ایم اے کے وفد جسکی قیادت پی ایم اے کے قائمقام صدر فزیشن ڈاکٹر طارق محمود طاہر نے کی۔ وفد میں جنرل سیکرٹری ڈاکٹر راؤ مسعود اکبر ،ڈاکٹر احسان بابر اور چلڈرن کمپلیکس کے انچارج معطل ہونے والے ڈاکٹرخالد محمود اور معطل چائیلڈ اسپیشلسٹ ڈاکٹر عبدالحفیظ بھی شامل تھے اس موقع پر ڈسٹرکٹ بار کے صدر مہر شیر بہادر لک ،صدر پریس کلب شیخ خالد مسعود ساجد (راقم الحروف )اور تاجر رہنما ارشاد حسین بھٹی ،ڈی ایس پی صدر شاہد نیاز گجر،ڈی ایس پی کرائمز مختار جوئیہ ،ڈی ایس پی لیگل قدیر انور ،ڈی ایس پی ٹریفک راجہ شاہد نذیر بھی موجود تھے رات گئے تک طویل مذاکرات کے بعد یہ طے ہوا کہ ہیلتھ کیر سنٹر کی حتمی رپورٹ کے آنے تک ڈاکٹروں کے خلاف مقدمہ ہیلڈ اِن کیا جاکر ڈاکٹر ز اپنی ضمانتیں واپس لے لین یہ بات بھی طے ہوئی کہ اگر ہیلتھ کیر کمیشن کی رپورٹ ڈاکٹروں کے خلاف آئی تو مقدمہ اُس کے مطابق چلایا جائے گا ڈاکٹروں نے معطل ہونے والے ڈاکٹروں کی بحالی کا بھی مطالبہ کیا اور کہا کہ چونکہ معطل ایم ایس اور ڈاکٹروں ونرسنگ سٹاف پر کوئی جرم تا حال ثابت نہ ہے اس لیے انہیں بحال کروایا جائے جس پر ضلعی انتظامیہ اور ارکان اسمبلی نے انہیں یقین دلایا کہ وہ اس بابت وزیراعلیٰ پنجاب سے بات کریں گے ۔ڈاکٹروں نے یہ فیصلہ کیا کہ یہ اُن کی بحالی تک ڈی ایچ کیو ہسپتال کے ڈاکٹرز صبح 8بجے سے 9بجے تک روزانہ علامتی ہڑتال جاری رکھیں گے جب تک معطل ڈاکٹر بحال نہیں ہو جاتے ۔اس طرح ڈاکٹروں کی ہڑتال ایک گھنٹہ روزانہ جاری ہے ۔دوسری طرف ہیلتھ کئیر کمیشن کے ڈائیریکٹر ڈاکٹر تنویر زیور کی سر بر اہی میں 6رکنی کمیٹی نے ہسپتال کا معائینہ کیا جنکہ جاں بحق ہونے والے بچوں کے ورثان ،گڑھا موڑ،میلسی اور پکھی موڑ میں 3ایسے بچے جو دائیوں کے ہاتھوں پیدا ہوئے تھے اُن دائیوں سے بھی ملاقات کی ۔اس طرح ہیلتھ کئیر کمیشن اپنی مفصل رپورٹ جلد وزیراعلیٰ پنجاب کو بھیج دے گا۔
مسیحائی کے دعوے دارڈاکٹروں اور پی ایم اے اور قائمقام ایم ایس ڈاکٹر محمد عابد کے فیصلہ کے مطابق ڈی ایچ کیو وہاڑی جو اس وقت 300بیڈ کا چل رہا تھا کو فوری طور پر 125بیڈ تک محدود کر دیا گیا ہے چلڈرن کمپلیکس کے تمام ڈاکٹر معطل ہونے سے مکمل طور پر بند ہو گیا ہے ۔اس وقت 400بیڈ کی متوقع منظوری تک پہنچ کر میڈیکل کالج کی طرف رواں دواں اس ہسپتال میں اب صرف 3وارڈزکے علاوہ تمام وارڈبند کر دئیے گئے ہیں ایک مردانہ وارڈ جو 50بیڈ کا ہے میں کارڈیالوجی ،میڈیسن ،سرجری ،یورالوجی اور آرتھو پیڈک سمیت ہر مرض کے مریض اکھٹے رکھے جا رہے ہیں ایسی طرح ایک خواتین کیلئے بھی وارڈ میں انہی امراض کے مُشترکہ مریض رکھے جارہے ہیں جبکہ تیسری وارڈ گائینی کے مریض کے لیے ہے اس طرح ڈی ایچ کیو میں 8بیڈ ڈائیلسز میں کام کر رہے ہیں ۔وزیراعلیٰ مانیڑنگ ٹیم اور ہیلتھ کئیر کمیشن کی رپورٹ کے مطابق صرف چلدڈرن کمپلیکس اور نوزائیدہ بچوں کے آئی سی یو وارڈ میں 6ڈاکٹر ز ،16سٹاف نرس ،4سویپر ،4آکسیجن ٹیکنیشن اور 4آفس بورئے منظور شدہ ہیں مگر اس کمپلیکس میں 3ڈاکٹر ،4سٹاف نرس اور ایک سویپر تھا جن کی معطلی کے بعد یہ وارڈ تو بلکل ہی بند ہو گئی ۔اب دیکھنا یہ ہے کہ بچوں کی ہلاکت میں ڈاکٹروں کا کتنا قصور نکلتا ہے اور انہیں کیا سزا دی جاتی ہے حکومت اس اہم اور سنگین مسّلہ پر کیا اقدام اٹھا تی ہے جس سے پورے ملک میں سرکاری ڈاکٹروں کے پرائیویٹ ہسپتالوں میں پریکٹس پر پابندی کے قانون پر عمل درآمد کروانے میں کہا ں تک کامیاب ہوتی ہے ۔تاکہ سرکاری ہسپتالوں کا نظام بہتر بنایا جا سکے ۔دوسری طرف جاں بحق ہونے والے نوزائیدہ بچوں کے ورثاء وزیر اعلی کی طرف دیکھ رہے ہیں کہ انہیں سرکاری طورپر ملنے والی امدادکے چیک کب ملتے ہیں۔واضع رہے کہ
ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر کا قیام 1980میں عمل میں آیا جو 125 بیڈ پر مشتمل تھا ۔جو مسلم لیگ (ن) کی مرکزی رہنما و رکن قومی اسمبلی محترمہ تہمینہ دولتانہ کی کوششوں سے 2008کے انتخابات میں بننے والی پنجاب حکومت سے اس کی اپ گریڈ یشن کروا کر 300بیڈ تک پہنچ گیا جو متوقع 400بیڈ کا ہسپتال بن کر میڈ یکل کالج کی طرف رواں دواں تھا ۔ اس ہسپتال کے چلڈرن کمپلیکس کے چیف کنسلٹنٹ امراض بچگانہ ڈاکٹر خالد محمود کی شبانہ روز کوششوں سے یو نیسف نے اسے\"بے بی فرینڈ لی ہسپتال \"ڈیکلیئر کر رکھا ہے ہسپتال کی اَپ گریڈ یشن کی تمام تر عمارتیں اپنے تکمیل کے قطعی آخری مراحل میں ہیں ضرورت اس امر کی ہے کہ حکومت پنجاب فوری طور پر منظور شدہ اسپیشلسٹ ڈاکٹرز ،میڈیکل آفیسز ،سٹاف نرسز ،ٹیکنیکل سٹاف و سویپر وغیرہ اورہر طرح کی مشینری فوری طور پر فراہم کرے تاکہ یہ ہسپتال علاقہ کے عوام کی خدمت کر سکے اور میڈیکل کالج بننے سے یہاں کے بچے اعلیٰ تعلیم حاصل کر کے ڈاکٹر بنے اور خطے کی خدمت کر سکے اس وقت اس ہسپتال
میں انتہائی قابل ترین ڈاکٹر ز جن میں فزیشن ڈاکٹر طارق محمود ،کارڈ یالوجسٹ ڈاکٹر محمد فاروق جاوید ،کنسلٹنٹ سرجن ڈاکٹر محمد اقبال ہما ء ،آئی سرجن ڈاکٹر غلام حسین آصف ،یورالوجسٹ ڈاکٹر محمد مُبین رانا جیسے ڈاکٹروں کی ٹیم اور با لخصوص ایم ایس ڈاکٹر محمد اشرف جیسے ڈاکٹر کسی بھی ہسپتال کے لیے سرمایہ سے کم نہ ہیں ۔
اس وقت وطن عزیز پاکستان جس بحران سے گزر رہا ہے تمام ادارے لوٹ مار، کرپشن ، اقرباء پروری میں ملوث اور عام کو ریلیف دینے میں پوری طرح ناکام ہو چکے ہیں اس وقت لوگ صرف دو اداروں پر کچھ اعتماد کررہے ہیں ان میں پاک فوج اور عدلیہ شامل ہیں جبکہ تیسرا ادارہ انسانی جان بچانے والے ڈاکٹری کا شعبہ ہے جن کی آنکھوں پر بھی اب دولت ، لالچ اور خود غرضی کی پٹی چڑھی ہوئی ہے ضرورت اس امر کی ہے کہ ڈاکٹروں کو جہاں بہتر روزگار میسر ہیں وہاں اپنے پیشے سے انصاف کرتے ہوئے دکھی انسانیت کی خدمت کرکے مسیحا بن جائیں تو نہ صرف دنیا بلکہ آخرت میں بھی کامیاب ہو سکتے ہیں




0 comments:
Post a Comment