اسلام آباد (سی این این نیوز)پاکستان تحریک انصاف کے ڈپٹی چیئرمین شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ الیکشن کمیشن نے تسلیم کر لیا ہے کہ شفاف انتخابات نہیں کروائے گئے، اس ادارے کی رپورٹ نے آزاد اور شفاف انتخاب کا پول کھول دیا ہے، اس رپورٹ نے تحریک انصاف کے الزامات کی تصدیق کر دی ہے، یہ سب معاملات ثابت کر رہے ہیں کہ تحریک انصاف کے الزامات صحیح ہیں اور ووٹرز کی حق تلفی کی گئی تھے ، اس کے ذمہ داران کے خلاف کاروائی پر ہماری بات اب پہلے سے بھی مضبوط ہو گئی ہے، اسپیکر کو خط لکھا ہے کہ ہمارے تمام ممبران کو ایک ساتھ استعفوں کی تصدیق کے لئے بلایا جائے۔ پریس کانفرنس سے خطاب میں انہوں نے کہا الیکشن کمیشن کی یہ رپورٹ دسمبر 2013میں تیار کی گئی تھی،ہمارا سوال یہ ہے کہ آج تک اس رپورٹ کو کیوں جاری نہیں کیا گیا؟ یو این ڈی پی کی طرف سے تیار کردہ کمپیوٹر سسٹم اچانک انتخابات کی رات بند کر دیا جانا بھی رپورٹ سے ثابت ہو گیا ہے لیکن کیا الیکشن کمیشن نے کسی بھی فرد کے خلاف اس وجہ سے نااہلی کی کاروائی کی؟ان کا کہنا تھا کہ انتخابات کے دن پولنگ کے دوران اچانک پولنگ کا ایک گھنٹہ بڑھا دیا گیا، الیکشن کمیشن نے تسلیم کیا کہ پولنگ کا سامان نہیں پہنچایا جا سکا اور نہ ہی نتائج مرتب کرتے ہوئے باضابطہ طریقہ اپنایا گیا، لیکن کیا اس پر آزاد الیکشن کمیشن کی جانب سے کسی قسم کی کاروائی کی گئی؟ الیکشن کمیشن نے مان لیا ہے کہ امیدواروں کی اسکروٹنی کرنے والا سیل تو کام ہی نہیں کر رہا تھا، اس کے بعد جانچ پڑتال کا مرحلہ تو بے معنی بن کر رہ گیا، دوسری جانب حکومت کا ابھی بھی اسرار ہے کہ یہ انتخابات تو بہت شفاف اور آزادانہ تھے۔شاہ محمود قریشی نے کہا کہ الیکشن کمیشن کی رپورٹ میں دبے ہوئے الفاظ میں بیلٹ پیپرز کی چھپائی میں بے ضابطگیوں کا بھی اقرار کیا ہے، اگر اس معاملے کی مناسب تحقیقات کی جائیں تو تحریک انصاف کی جانب سے اردو بازار سے بیلٹ پیپرز چھپوانے کا الزام بھی درست ثابت ہو جائے گا۔ انتخابات کے دوران مقناطیسی سیاہی استعمال کرنے کے معاملے پر بھی بے ضابطگی ہوئی، ناقص سیاسی استعمال کی گئی اور اس کے ذریعے ووٹروں کی نشاندہی کرنے کے لئے کی گئی اصلاحات پر مکمل پانی پھیر دیا گیا، اس پر بھی اس آزاد ادارے میں کوئی کاروائی نہیں کی گئی، ایک منصوبہ بندی کے تحت ایسا کیا گیا تھا تو اس کے پس پردہ عناصر کیوں سامنے نہیں لائے گے؟انہوں نے الزام عائد کیا کہ انتخابی عمل سے کچھ دیر قبل ہی پریزائیڈنگ افسران نے پولنگ اسکیمیں بدل ڈالی گئیں اور اس پر کوئی کاروائی نہ ہوئی تو آج لوگ کہہ رہے ہیں کہ یہ الیکشن تو ریٹرننگ افسران کا ہے، کل لاہور میں ایک اسکول میں اچانک آگ لگتی ہے اور انتخابی ریکارڈ جل جاتا ہے، اس ریکارڈ میں وہ حلقے بھی شامل ہیں جن پر ہم سپریم کورٹ میں موجود ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ انتخابات کی شفافیت پر عوام کو بھی شک ہے، دھاندلی سے متعلق ہمارے الزامات پر کان نہیں دھرے گئے،عوام کے پاس گئے تو ہم پر توجہ دی جانے لگی، ہم نے مذاکرات کے دوران پوری کوشش کی کہ لچک کا مظاہرہ کریں، ہم نے مذاکرات میں تحریک انصاف اور عمران خان کی نمائندگی کی، حکومت عدالتی کمیشن اور دھاندلی کی تحقیقات سے بھاگ گئی۔
Video Gallery
Video Gallery




0 comments:
Post a Comment